Lesson 50 — Active & Passive Participles
اسم الفاعل وہ لفظ ہے جو اپنے اندر فعل کے کرنے والے کا معنی رکھتا ہو۔ اگر فعل تین حرفی ہو تو ماضی کے پہلے حرف کے بعد الف لگا دیں — جیسے: نَصَرَ سے نَاصِرٌ (مدد کرنے والا)۔
اسم المفعول وہ لفظ ہے جس میں کسی پر فعل کے واقع ہونے کا معنی پایا جائے۔ تین حرفی فعل کے لیے شروع میں "مَ" زبر کے ساتھ لگائیں اور آخری حرف سے پہلے "واو" لگا دیں — جیسے: نَصَرَ سے مَنْصُوْرٌ (جس کی مدد کی گئی)۔
The active participle (ism al-fā'il) conveys the meaning of the doer of an action. For a three-letter verb, add "alif" after the first letter — e.g. naṣara → nāṣirun (a helper).
The passive participle (ism al-maf'ūl) conveys the meaning of something acted upon. For a three-letter verb, add "ma-" (fatḥa) at the start and "wāw" before the last letter — e.g. naṣara → manṣūrun (one who is helped).
﴿كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ﴾
[البقرة: 116]﴿مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ﴾
[الفاتحة: 4]﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴾
[البقرة: 74]﴿وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ﴾
[البقرة: 8]﴿وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا﴾
[النساء: 47]﴿وَلَهُمْ فِيْهَآ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ﴾
[البقرة: 25]① ہر فعل کو اس کے اسم فاعل کے ساتھ ملائیں۔
اسم الفاعل کس کا معنی رکھتا ہے؟
"نَصَرَ" کا اسم فاعل کیا ہے؟
اسم المفعول تین حرفی فعل سے بنانے کے لیے شروع میں کیا لگایا جاتا ہے؟
"نَصَرَ" کا اسم مفعول کیا ہے؟
﴿كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ﴾ کس سورت میں ہے؟
غَافِلٌ کا معنی کیا ہے؟