Lesson 49 — The Passive Present-Tense Verb
فعل مضارع مجہول بنانے کا طریقہ: فعل مضارع معلوم کے شروع میں پیش لگائیں: تَظْلِمُ سے تُظْلِمُ۔ پھر آخر سے پہلے والے حرف کو زبر دیں: تُظْلِمُ سے تُظْلَمُ (اس پر ظلم نہیں کیا جائے گا)۔
يُوْحٰى (وحی کی جاتی ہے) اس صیغے کی ایک اہم مثال ہے، جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کے لیے بار بار استعمال ہوئی ہے۔
To form the passive present tense: give the active present tense a ḍamma at the start: taẓlimu → tuẓlimu; then give the letter before the ending a fatḥa: tuẓlimu → tuẓlamu (it/she will not be wronged).
Yūḥā (it is revealed) is a key example of this pattern, used repeatedly for the revelation sent down to the Prophet ﷺ.
﴿اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى﴾
[النجم: 4]﴿اِنَّمَآ اَنَا۠ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ﴾
[فصلت: 6]﴿وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا﴾
[النساء: 49]﴿اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ﴾
[البقرة: 272]﴿لَعَلَّكُمْ تُسْـَٔلُوْنَ﴾
[الأنبياء: 13]① ہر فعل مضارع معلوم کو اس کی مجہول شکل کے ساتھ ملائیں۔
فعل مضارع مجہول بنانے کے لیے شروع میں کیا لگایا جاتا ہے؟
آخر سے پہلے والے حرف پر کیا آتا ہے؟
"تَظْلِمُ" کی مجہول شکل کیا ہے؟
﴿اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى﴾ کس سورت میں ہے؟
فَتِيْلٌ کس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے؟
﴿اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ﴾ کس سورت میں ہے؟