Lesson 46 — The Prohibitive Verb
ایسا فعل جس میں کسی کام کرنے سے روکا جائے اسے فعل نہی کہا جاتا ہے۔ بنانے کا طریقہ: فعل مضارع کے شروع میں "لَا" لگائیں: تَحْزَنُ سے لَا تَحْزَنُ۔ پھر آخر کو ساکن کریں: لَا تَحْزَنْ۔ اگر آخر میں نون ہو تو وہ گر جائے گا، سوائے جمع مؤنث کے: تَكُوْنُوْنَ سے لَا تَكُوْنُوْا۔
یہ اسلوب قرآن مجید میں بار بار آتا ہے، خصوصاً انبیاء اور مومنین کی ہمت بندھانے کے لیے — جیسے لَا تَحْزَنِيْ (غم نہ کرو)، لَا تَخَافِيْ (نہ ڈرو)۔
A verb that prohibits an action is called the prohibitive (fi'l nahy). To form it: add "lā" before the present tense — taḥzanu → lā taḥzanu; then make the ending sukūn: lā taḥzan. If it ends in nūn, it drops, except for feminine plural: takūnūna → lā takūnū.
This appears repeatedly in the Qur'an, especially to encourage prophets and believers — e.g. lā taḥzanī (do not grieve), lā takhāfī (do not fear).
﴿وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ﴾
[الأعراف: 205]﴿فَلَا تَكُنْ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ﴾
[السجدة: 23]﴿فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَآ اَلَّا تَحْزَنِيْ﴾
[مريم: 24]﴿وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْزَنِيْ﴾
[القصص: 7]﴿وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ﴾
[الروم: 31]① ہر فعل کو 'لَا' کے ساتھ فعل نہی کی شکل میں بدل کر رکھیں۔
فعل نہی بنانے کے لیے مضارع کے شروع میں کیا لگایا جاتا ہے؟
فعل نہی کے بعد آخری حرف کا کیا اعراب ہوتا ہے؟
جمع مؤنث میں فعل نہی کے آخری نون کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
﴿فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَآ اَلَّا تَحْزَنِيْ﴾ کس کے بارے میں ہے؟
﴿وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْزَنِيْ﴾ کس سورت میں ہے، ام موسیٰ سے خطاب؟
مُشْرِكٌ کا معنی کیا ہے؟