Lesson 45 — The Imperative Verb: Plural & Feminine Forms
جمع مذکر کے لیے فعل امر بنانے کا طریقہ: فعل مضارع مخاطب کے شروع کی "ت" ہٹائیں: تَسْجُدُوْنَ سے سْجُدُوْنَ۔ آخر کو ساکن کریں: سْجُدُوْا۔ شروع میں ہمزہ لائیں (اگر ضرورت ہو): اُسْجُدُوْا۔
مؤنث کے صیغے مختلف طریقے سے بنتے ہیں — جیسے اُدْخُلِي (تم — ایک عورت — داخل ہو)، قُصِّيْهِ (اس کا پیچھا کرو — عورت سے خطاب)۔ جمع مؤنث کی مثال: قُلْنَ، قَرْنَ۔
For the masculine plural imperative: remove the "ta-" from the 2nd person present: tasjudūna → sjudūna. Make the ending sukūn: sjudū. Add hamza if needed: usjudū.
Feminine forms follow a different pattern — e.g. udkhulī (enter, addressing one woman), quṣṣīhi (follow him, to a woman). Feminine plural: qulna, qarna.
﴿ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا﴾
[الأعراف: 56]﴿وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ﴾
[البقرة: 34]﴿وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾
[البقرة: 83]﴿اَوْفُوْا بِعَهْدِيْٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ﴾
[البقرة: 40]﴿يٰمَرْيَمُ اقْنُتِيْ لِرَبِّكِ﴾
[آل عمران: 43]﴿فَكُلِيْ وَاشْرَبِيْ وَقَرِّيْ عَيْنًا﴾
[مريم: 26]① ہر فعل کو جمع مذکر امر کی شکل میں بدل کر رکھیں۔
جمع مذکر امر بنانے کے لیے سب سے پہلے کیا ہٹایا جاتا ہے؟
﴿ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا﴾ کس سورت میں ہے؟
﴿وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ﴾ کس سورت میں ہے؟
"اقْنُتِيْ" کس کو خطاب ہے؟
عَهْدٌ کا معنی کیا ہے؟
﴿فَكُلِيْ وَاشْرَبِيْ وَقَرِّيْ عَيْنًا﴾ میں یہ کس سے خطاب ہے؟