Lesson 44 — The Imperative Verb: Introduction
ایسا فعل جس میں کسی کام کرنے کا حکم دیا جائے اسے فعل امر کہا جاتا ہے۔ اسے بنانے کا طریقہ: (۱) فعل مضارع مخاطب کے شروع کی "ت" ہٹا دیں: تَجْعَلُ سے جْعَلُ۔ (۲) آخر کو ساکن کر دیں: جْعَلُ سے جْعَلْ۔ (۳) شروع میں ہمزہ لائیں: جْعَلْ سے اجْعَلْ۔ (۴) اگر درمیانی حرف پر زبر/زیر ہو تو ہمزہ کو زیر دیں: اِجْعَلْ۔ اگر پیش ہو تو ہمزہ کو پیش دیں: اُذْکُرْ۔
یہ صیغہ دعاؤں اور احکام کے لیے کثرت سے استعمال ہوتا ہے — جیسے رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا (اے میرے رب! اسے امن والا شہر بنا دے)۔
A verb giving a command to do something is called the imperative (fi'l amr). To form it: (1) remove the "ta-" from the 2nd-person present tense: taj'alu → j'alu. (2) make the ending sukūn: j'alu → j'al. (3) add hamza at the start: j'al → ij'al. (4) if the middle letter has fatḥa/kasra, give the hamza kasra: ij'al; if ḍamma, give the hamza ḍamma: udhkur.
This form is used extensively in supplications and commands — e.g. Rabbi ij'al hādhā baladan āminan (My Lord, make this a city of peace).
﴿رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا﴾
[البقرة: 126]﴿رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ﴾
[البقرة: 128]﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا﴾
[مريم: 41]﴿قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ﴾
[آل عمران: 84]﴿وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ﴾
[البقرة: 223]① ہر فعل مضارع کو فعل امر کی شکل میں بدل کر رکھیں۔
فعل امر کسے کہتے ہیں؟
فعل امر بنانے کے پہلے مرحلے میں کیا ہٹایا جاتا ہے؟
"جْعَلْ" کے شروع میں ہمزہ آنے کے بعد کیا بنتا ہے؟
﴿رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا﴾ کس نبی کی دعا ہے؟
صِدِّيْقٌ کا معنی کیا ہے؟
﴿وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ﴾ کا معنی کیا ہے؟