Lesson 41 — Jussive Mood: Particles of Jazm I
فعل مضارع کے آخر پر "پیش" آتی ہے، لیکن اگر اس سے پہلے "لَمْ" (نہیں)، "لَمَّا" (ابھی تک نہیں)، "لامِ امر"، "اِنْ" (اگر)، "مَنْ" (جو)، یا "مَا" آ جائیں تو پھر آخر پر "زبر" کی بجائے "جزم" (سکون) آتا ہے، اور مضارع کا آخری نون گر جاتا ہے — جیسے: تَعْلَمُ سے لَمْ تَعْلَمْ۔
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ...) قرآن مجید میں ایک نہایت مشہور اسلوب ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے۔
The present tense normally ends in ḍamma, but if preceded by "lam" (not), "lammā" (not yet), the imperative lām, "in" (if), "man" (whoever), or "mā", the ending becomes jazm (sukūn) instead of fatḥa, and the final nūn drops — e.g. ta'lamu → lam ta'lam.
A-lam ta'lam anna Allāh (Do you not know that Allah...) is a very famous Qur'anic phrase drawing attention to signs of Allah's power.
﴿اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ﴾
[البقرة: 106]﴿قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّيْٓ اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾
[البقرة: 33]﴿اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ﴾
[النساء: 49]﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ﴾
[الفجر: 6]﴿اُولٰٓئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ﴾
[الأحزاب: 19]① ہر فعل کو 'لَمْ' کے ساتھ صحیح شکل میں بدل کر رکھیں۔
"لَمْ" کے بعد فعل مضارع پر کیا اعراب آتا ہے؟
"اَلَمْ تَعْلَمْ" کا معنی کیا ہے؟
﴿اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ﴾ کس سورت میں ہے؟
یہ آیت کس نے کس سے کہی: ﴿اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّيْٓ اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾؟
عَادٌ کون تھے؟
اَحْبَطَ کا معنی کیا ہے؟