Lesson 39 — Subjunctive Mood: Particles of Naṣb I
فعل مضارع کے آخر پر عموماً "پیش" آتی ہے، لیکن اگر اس سے پہلے "لَنْ" (ہرگز نہیں)، "اَنْ" (کہ)، "کَیْ" (تاکہ)، یا "اِذَنْ" آ جائیں تو پھر آخر پر "زبر" آتی ہے۔ اور جہاں مضارع کے آخر میں نون ہوتا ہے، وہ نون گر جاتا ہے — جیسے: يَجِدُ سے لَنْ يَجِدَ، اور يُؤْمِنُوْنَ سے اَنْ يُؤْمِنُوْا۔
لَنْ مستقبل میں سختی سے نفی کرتا ہے ("ہرگز نہیں ہوگا")، جبکہ کَیْ کسی مقصد یا وجہ کو بیان کرتا ہے ("تاکہ")۔
The present tense verb normally ends in ḍamma, but if preceded by "lan" (never), "an" (that), "kay" (so that), or "idhan", the ending changes to fatḥa. Where the present tense ends in nūn, that nūn is dropped — e.g. yajidu → lan yajida; yu'minūna → an yu'minū.
Lan strongly negates the future ("will never happen"), while kay expresses purpose or reason ("so that").
﴿فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِيْرًا﴾
[النساء: 52]﴿فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِيْلًا﴾
[النساء: 88]﴿وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً﴾
[البقرة: 55]﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ﴾
[آل عمران: 92]﴿كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيْرًا﴾
[طه: 33]﴿فَرَجَعْنٰكَ اِلٰٓى اُمِّكَ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ﴾
[طه: 40]① ہر فعل کو صحیح اعراب کے ساتھ ملائیں (لَنْ کے بعد آنے والا فعل)۔
فعل مضارع پر "لَنْ" کے بعد کیا اعراب آتا ہے؟
"لَنْ" کا معنی کیا ہے؟
"كَيْ" کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
﴿فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِيْرًا﴾ کس سورت میں ہے؟
البِرّ کا معنی کیا ہے؟
﴿كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيْرًا﴾ کس نبی کی دعا میں ہے؟
﴿فَرَجَعْنٰكَ اِلٰٓى اُمِّكَ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا﴾ میں "اُمّ" سے کون مراد ہے؟