Lesson 38 — Diptotes: Nouns Without Tanwīn
عربی میں کچھ الفاظ ایسے ہیں جن پر "تنوین" (دو زبر، دو زیر یا دو پیش) اور "زیر" نہیں آتی — اس کی زیر بھی زبر کے ساتھ آتی ہے۔ ان کو "ممنوع من الصرف" کہتے ہیں۔
اس کی چند وجوہات ہیں: (۱) عجمی نام — جیسے اٰدَمُ۔ (۲) مؤنث نام — جیسے مَرْيَمَ، صَفْرَاءُ، مَكَّةَ۔ (۳) فعل کے وزن پر ہونا — جیسے اَكْبَرُ۔ (۴) آخر میں زائد الف نون — جیسے غَضْبَانَ۔ (۵) جمع کے خاص اوزان — جیسے اَبَابِيْلَ، مَسٰجِدُ، شُفَعَاءَ۔
Some Arabic words never take tanwīn (double vowel marks) or kasra — instead their kasra position is replaced by fatḥa. These are called diptotes (mamnū' min al-ṣarf).
Common reasons: (1) foreign proper names, e.g. Ādamu. (2) feminine names, e.g. Maryama, ṣafrā'u, Makkata. (3) verb-pattern nouns, e.g. akbaru. (4) extra alif-nūn ending, e.g. ghaḍbāna. (5) special plural patterns, e.g. abābīla, masājidu, shufa'ā'a.
﴿وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾
[طه: 121]﴿اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰٓى اٰدَمَ وَنُوْحًا﴾
[آل عمران: 33]﴿اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ﴾
[البقرة: 69]﴿اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبَارَكًا﴾
[آل عمران: 96]﴿وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ﴾
[البقرة: 217]﴿وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا﴾
[الأعراف: 150]① ہر لفظ کو اس کی وجہ (عجمی نام/مؤنث نام/فعل کے وزن پر) کے ساتھ ملائیں۔
"ممنوع من الصرف" کن الفاظ کو کہتے ہیں؟
آدم علیہ السلام کا نام ممنوع من الصرف کیوں ہے؟
مریم کا نام ممنوع من الصرف کیوں ہے؟
"اَكْبَرُ" ممنوع من الصرف کیوں ہے؟
"غَضْبَانَ" ممنوع من الصرف کیوں ہے؟
بَكَّةُ کس شہر کا پرانا نام ہے؟
صَفْرَاءُ کا معنی کیا ہے؟