Lesson 37 — Negating the Present Tense with لا
فعل مضارع کو منفی بنانے کے لیے اس کے شروع میں "لَا" لگایا جاتا ہے، اور فعل کی اصل شکل اور اعراب میں کوئی تبدیلی نہیں آتی — جیسے: يُحِبُّ (وہ پسند کرتا ہے) سے لَا يُحِبُّ (وہ پسند نہیں کرتا)۔
یہ اسلوب قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدگی بیان کرنے کے لیے کثرت سے آیا ہے — جیسے اَللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا)، اور یہ ایک نہایت طویل فہرست ہے جس میں مختلف صفات والے لوگوں کا ذکر ہے جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا۔
To make the present tense verb negative, "lā" is placed before it, with no change to the verb's form or ending — e.g. yuḥibbu (he likes) → lā yuḥibbu (he does not like).
This structure appears very frequently in the Qur'an to express Allah's displeasure — e.g. Allāhu lā yuḥibbu al-fasād (Allah does not like corruption) — forming a long list of qualities Allah dislikes in people.
﴿وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ﴾
[البقرة: 205]﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ﴾
[لقمان: 18]﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ﴾
[آل عمران: 57]﴿اَلَا اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ﴾
[البقرة: 12]﴿وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ﴾
[البقرة: 258]① ہر فعل کو منفی شکل میں بدل کر رکھیں۔
مضارع کو منفی بنانے کے لیے اس کے شروع میں کیا لگایا جاتا ہے؟
"لَا" لگانے سے فعل کی اصل شکل میں کیا تبدیلی آتی ہے؟
﴿وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ﴾ کس سورت میں ہے؟
مُخْتَالٌ فَخُوْرٌ کا معنی کیا ہے؟
﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ﴾ کس سورت میں ہے؟
﴿اَلَا اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ﴾ کس سورت میں ہے؟
﴿وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟