Lesson 36 — Present Tense: 1st Person Plural
فعل مضارع جمع متکلم بنانے کے لیے ماضی کے شروع میں "نَ" کا اضافہ کر کے آخر کو پیش دیا جاتا ہے — جیسے: عَلِمَ (وہ جان گیا) سے نَعْلَمُ (ہم جانتے ہیں)۔
یہ صیغہ بھی اللہ تعالیٰ کے کلام میں تعظیم کے طور پر بہت آتا ہے — جیسے نَعْلَمُ (ہم جانتے ہیں)، نُرِيْدُ (ہم چاہتے ہیں)، نَرٰى (ہم دیکھتے ہیں)۔
To form the 1st person plural present tense, add "na-" to the start of the past-tense verb and end it with ḍamma — e.g. 'alima (he knew) → na'lamu (we know).
This form also appears often in Allah's speech expressing majesty — e.g. na'lamu (We know), nurīdu (We wish), narā (We see).
﴿قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ﴾
[الأنعام: 33]﴿اِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ﴾
[يس: 76]﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ﴾
[ق: 16]﴿لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَّلَا شُكُوْرًا﴾
[الإنسان: 9]﴿قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ﴾
[البقرة: 144]① ہر فعل کو 'ہم' کی مضارع شکل میں بدل کر رکھیں۔
فعل مضارع جمع متکلم بنانے کے لیے فعل کے شروع میں کیا لگایا جاتا ہے؟
"عَلِمَ" کی جمع متکلم مضارع کیا ہے؟
﴿قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ﴾ کس سورت میں ہے؟
يُسِرُّوْنَ کا معنی کیا ہے؟
﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ﴾ کس سورت میں ہے؟
﴿لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَّلَا شُكُوْرًا﴾ کس سورت میں ہے؟
﴿قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ﴾ کس چیز کے بارے میں ہے؟