Lesson 35 — Present Tense: 1st Person Singular
فعل مضارع واحد متکلم بنانے کے لیے ماضی کے شروع میں "أ" کا اضافہ کر کے آخر کو پیش دیا جاتا ہے — جیسے: عَلِمَ (وہ جان گیا) سے أَعْلَمُ (میں جانتا ہوں)۔
یہ صیغہ انبیاء کے اپنے بارے میں بیانات میں بہت آتا ہے — جیسے لَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ (میں غیب نہیں جانتا) اور اِنِّيْٓ اَخَافُ (بےشک مجھے خوف ہے)۔
To form the 1st person singular present tense, add "a-" (hamza) to the start of the past-tense verb and end it with ḍamma — e.g. 'alima (he knew) → a'lamu (I know).
This form appears frequently in the prophets' statements about themselves — e.g. lā a'lamu al-ghayb (I do not know the unseen) and innī akhāf (indeed I fear).
﴿قَالَ اِنِّيْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴾
[البقرة: 30]﴿لَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ﴾
[هود: 31]﴿فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ﴾
[يونس: 104]﴿لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ﴾
[الكافرون: 2]﴿اِنِّيْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ﴾
[المائدة: 28]﴿قَالَ رَبِّ اِنِّيْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ﴾
[المائدة: 25]① ہر فعل کو 'میں' کی مضارع شکل میں بدل کر رکھیں۔
فعل مضارع واحد متکلم بنانے کے لیے فعل کے شروع میں کیا لگایا جاتا ہے؟
"عَلِمَ" کی واحد متکلم مضارع کیا ہے؟
﴿قَالَ اِنِّيْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ کس نے کہا؟
﴿لَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ﴾ کس سورت میں ہے؟
سورۃ الکافرون میں "لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ" کا کیا مطلب ہے؟
﴿اِنِّيْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ کس سورت میں ہے؟
﴿لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ﴾ میں یہ کس نے کہا؟