Lesson 32 — Present Tense: 3rd Person Feminine Singular
فعل مضارع واحد مؤنث غائب بنانے کے لیے فعل ماضی کے شروع میں "تَ" لگائی جاتی ہے اور آخر کو پیش دیا جاتا ہے — جیسے: كَانَ (وہ تھا) سے تَكُوْنُ (وہ — عورت یا اسم مؤنث — ہے/ہوگی)۔
یہ صیغہ اکثر ایسے اسمائے مؤنث کے ساتھ آتا ہے جو کسی چیز کی حالت یا کیفیت بیان کرتے ہیں — جیسے: تَجْرِيْ (بہتی ہے، نہریں)، تُثِيْرُ (اٹھاتی ہے، ہوائیں)۔
To form the 3rd person feminine singular present tense, add "ta-" to the start of the past-tense verb and end it with ḍamma — e.g. kāna (he was) → takūnu (it/she is/will be).
This form often appears with feminine nouns describing a state or quality — e.g. tajrī (it flows, rivers), tuthīru (it raises, winds).
﴿اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ لَا تَأْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ﴾
[البقرة: 255]﴿اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ﴾
[البقرة: 164]﴿اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهٗ فِي السَّمَاءِ﴾
[الروم: 48]﴿مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾
[الأنعام: 135]﴿وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَأْتِيْنَآ اٰيَةٌ﴾
[البقرة: 118]﴿تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ﴾
[البقرة: 248]① ہر فعل کو واحد مؤنث غائب کی شکل میں بدل کر رکھیں۔
فعل مضارع واحد مؤنث غائب بنانے کے لیے فعل کے شروع میں کیا لگایا جاتا ہے؟
"كَانَ" کی واحد مؤنث غائب مضارع کیا ہے؟
آیۃ الکرسی میں "لَا تَأْخُذُهٗ سِنَةٌ" کا معنی کیا ہے؟
﴿اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ...﴾ کس سورت میں ہے؟
تُثِيْرُ کا معنی کیا ہے؟
عَاقِبَةُ الدَّار سے کیا مراد ہے؟
تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ کس چیز کے بارے میں ہے؟
الْقَيُّوْمُ کا معنی کیا ہے؟