Lesson 31 — Present Tense: 3rd Person Masculine Plural
فعل مضارع جمع مذکر غائب بنانے کے لیے مضارع (واحد) کے آخر میں "وْنَ" کا اضافہ کیا جاتا ہے — جیسے: يَسْأَلُ (وہ سوال کرتا ہے) سے يَسْأَلُوْنَ (وہ سب سوال کرتے ہیں)۔
يَسْأَلُوْنَكَ (وہ آپ سے سوال کرتے ہیں) قرآن مجید میں ایک نہایت مانوس اسلوب ہے — صحابہ کرام کے مختلف سوالات کا ذکر اسی صیغے سے شروع ہوتا ہے، جیسے قیامت، شراب و جوا، اور یتیموں کے بارے میں سوالات۔
To form the 3rd person masculine plural present tense, add "-ūna" (وْنَ) to the singular form — e.g. yas'alu (he asks) → yas'alūna (they ask).
Yas'alūnaka (they ask you) is a very familiar Qur'anic opening — many of the Companions' questions are introduced this way, on topics like the Hour, wine and gambling, and orphans.
| مضارع (واحد) | معنی | جمع مذکر غائب | معنی |
|---|---|---|---|
| يَسْأَلُ | وہ سوال کرتا ہے | يَسْأَلُوْنَ | وہ سب سوال کرتے ہیں |
| يُؤْمِنُ | وہ ایمان رکھتا ہے | يُؤْمِنُوْنَ | وہ سب ایمان رکھتے ہیں |
| يَشْعُرُ | وہ سمجھتا ہے | يَشْعُرُوْنَ | وہ سب سمجھتے ہیں |
﴿يَسْأَلُوْنَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ﴾
[البقرة: 189]﴿يَسْأَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ﴾
[البقرة: 219]﴿وَيَسْأَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ﴾
[الإسراء: 85]﴿الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ﴾
[البقرة: 1-3]﴿اَلَا اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ﴾
[البقرة: 12]﴿يَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ﴾
[آل عمران: 75]① ہر فعل کو جمع مذکر غائب کی شکل میں بدل کر رکھیں۔
فعل مضارع جمع مذکر غائب بنانے کے لیے مضارع کے آخر میں کیا اضافہ کیا جاتا ہے؟
"يَسْأَلُ" کی جمع مذکر غائب کیا ہوگی؟
﴿يَسْأَلُوْنَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ﴾ کس چیز کے بارے میں سوال ہے؟
﴿يَسْأَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ﴾ کس سورت میں ہے؟
مَيْسِرٌ کا معنی کیا ہے؟
﴿وَيَسْأَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ﴾ کس سورت میں ہے؟
بِالْغَيْبِ کا معنی کیا ہے؟
مُفْسِدُوْنَ کا معنی کیا ہے؟
﴿يَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ﴾ کس سورت میں ہے؟
كَذِبٌ کا معنی کیا ہے؟