Lesson 30 — Weak-Letter Changes in the Present Tense
جن افعال میں حروفِ علّہ (الف، واو، یاء) پائے جاتے ہیں، ان کے فعل مضارع میں کچھ خاص تبدیلیاں آتی ہیں۔ تین قاعدے یاد رکھیں:
(۱) اگر فعل ماضی کے درمیان میں "الف" ہو تو مضارع میں وہ "واو" میں بدل جاتا ہے — جیسے: قَالَ (اس نے کہا) سے یَقُوْلُ (وہ کہتا ہے)۔
(۲) اگر ماضی کے شروع میں "واو" ہو تو مضارع میں اسے حذف کر دیا جاتا ہے (ذکر نہیں کیا جاتا) — جیسے: وَعَظَ (اس نے نصیحت کی) سے یَعِظُ (وہ نصیحت کرتا ہے) — یہاں شروع کا "و" مضارع میں غائب ہو گیا۔
(۳) اگر ماضی کا آخری حرف "یاء" یا "واو" ہو تو مضارع میں اسے ساکن پڑھا جاتا ہے — جیسے: دَعَا (اس نے بلایا/دعا کی) سے یَدْعُوْ (وہ بلاتا ہے)۔
جن افعال میں اصلی حروف سے کچھ زائد حروف پائے جاتے ہیں، ان کے فعل مضارع کی "یاء" کبھی پیش تو کبھی زبر کے ساتھ آتی ہے — جیسے: یُجَادِلُ (وہ جھگڑا کرتا ہے)، یُبَیِّنُ (وہ بیان کرتا ہے)، یَتَذَكَّرُ (وہ نصیحت حاصل کرتا ہے)۔
Verbs containing weak letters (alif, wāw, yā') undergo special changes in the present tense. Three rules to remember:
(1) If the past tense has "alif" in the middle, it becomes "wāw" in the present — e.g. qāla (he said) → yaqūlu (he says).
(2) If the past tense starts with "wāw", it's dropped in the present — e.g. wa'aẓa (he advised) → ya'iẓu (he advises) — the initial wāw disappears.
(3) If the past tense ends in "yā'" or "wāw", it's read as sākin (quiescent) in the present — e.g. da'ā (he called/prayed) → yad'ū (he calls).
For augmented verbs, the present tense's "yā'" sometimes carries ḍamma and sometimes fatḥa — e.g. yujādilu (he argues), yubayyinu (he explains), yatadhakkaru (he takes heed).
| قاعدہ | ماضی | مضارع | تبدیلی |
|---|---|---|---|
| درمیانی الف ← واو | قَالَ | یَقُوْلُ | الف → واو |
| ابتدائی واو حذف | وَعَظَ | یَعِظُ | واو غائب |
| آخری یاء/واو ساکن | دَعَا | یَدْعُوْ | ساکن |
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ﴾
[البقرة: 8]﴿وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا﴾
[الرعد: 43]﴿وَاللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا﴾
[البقرة: 268]﴿وَاللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ﴾
[يونس: 25]﴿وَیُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ﴾
[النور: 18]﴿اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ﴾
[الزمر: 9]① ہر مثال کو اس کے صحیح قاعدے کے ساتھ ملائیں۔
اگر فعل ماضی کے درمیان میں "الف" ہو تو مضارع میں وہ کس حرف میں بدل جاتا ہے؟
"قَالَ" کا مضارع کیا ہے؟
اگر ماضی کے شروع میں "واو" ہو تو مضارع میں اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
"وَعَظَ" کا مضارع کیا ہے؟
اگر ماضی کا آخری حرف "یاء" یا "واو" ہو تو مضارع میں اسے کیسے پڑھا جاتا ہے؟
"دَعَا" کا مضارع کیا ہے؟
﴿وَاللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ﴾ کس سورت میں ہے؟
دَارِ السَّلٰمِ سے کیا مراد ہے؟
اُولُوا الْاَلْبَابِ کا معنی کیا ہے؟
"یُبَیِّنُ" کا معنی کیا ہے؟