Lesson 29 — Recognizing the Present-Tense Verb
کسی کام کے حال یا مستقبل میں ہونے یا کرنے کو بتانے کے لیے جو فعل استعمال ہوتا ہے اسے فعل مضارع کہتے ہیں۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ اس کے شروع میں چار حروف (جنہیں مل کر "اَتَیْنُ" کہا جاتا ہے) میں سے کوئی نہ کوئی حرف — ہمزہ، تاء، یاء، یا نون — ضرور ہوگا۔
فعل مضارع غائب مذکر واحد بنانے کے لیے فعل ماضی کے شروع میں "یَ" لگاتے ہیں اور آخر کو "پیش" دے دیتے ہیں — جیسے: ذَهَبَ (وہ گیا) سے یَذْهَبُ (وہ جاتا ہے / جائے گا)۔
فعل مضارع کے درمیانی حرف پر کبھی زبر آتی ہے (جیسے: فَعَلَ ← یَفْعَلُ)، کبھی پیش (جیسے: خَرَجَ ← یَخْرُجُ)، اور کبھی زیر (جیسے: غَفَرَ ← یَغْفِرُ)۔ اس کا کوئی ایک متعین اصول نہیں — ہر فعل کی اپنی لغوی حیثیت ہوتی ہے، اسی لیے ہر فعل کا مضارع الگ سے یاد کرنا ضروری ہے۔
The verb used to express an action happening in the present or future is called fi'l muḍāri'. It's recognized by one of four letters at the start — hamza, tā', yā', or nūn (together called "atayn") — always present.
To form the 3rd person masculine singular present tense, add "ya-" to the start of the past-tense verb and end it with ḍamma — e.g. dhahaba (he went) → yadhhabu (he goes/will go).
The middle letter of the present tense can carry fatḥa (fa'ala → yaf'alu), ḍamma (kharaja → yakhruju), or kasra (ghafara → yaghfiru) — there's no single fixed rule; each verb has its own lexical form, so the present tense of each verb must be learned individually.
| صیغہ | ماضی (واحد) | مضارع (واحد) | ماضی (جمع) | مضارع (جمع) |
|---|---|---|---|---|
| غائب مذکر | فَعَلَ | یَفْعَلُ | فَعَلُوْا | یَفْعَلُوْنَ |
| غائب مؤنث | فَعَلَتْ | تَفْعَلُ | فَعَلْنَ | یَفْعَلْنَ |
| مخاطب مذکر | فَعَلْتَ | تَفْعَلُ | فَعَلْتُمْ | تَفْعَلُوْنَ |
| مخاطب مؤنث | فَعَلْتِ | تَفْعَلِیْنَ | فَعَلْتُنَّ | تَفْعَلْنَ |
| متکلم | فَعَلْتُ | اَفْعَلُ | فَعَلْنَا | نَفْعَلُ |
﴿قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ﴾
[آل عمران: 40]﴿یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ﴾
[النحل: 69]﴿اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ﴾
[النحل: 90]﴿فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ﴾
[البقرة: 284]﴿اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا﴾
[الزمر: 53]﴿وَاللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ﴾
[البقرة: 221]① ہر فعل ماضی کو اس کے مضارع کی شکل کے ساتھ ملائیں۔
فعل مضارع کسے کہتے ہیں؟
فعل مضارع کے شروع میں کون سے حروف میں سے ایک ضرور ہوتا ہے؟
"ذَهَبَ" کا مضارع کیا ہے؟
فعل مضارع کے درمیانی حرف پر کون سی حرکتیں آ سکتی ہیں؟
"خَرَجَ" کا مضارع کیا ہے؟
﴿اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ﴾ کس سورت میں ہے؟
عَدْلٌ کا معنی کیا ہے؟
﴿فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ﴾ کس سورت میں ہے؟
﴿اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟
مَغْفِرَةٌ کا معنی کیا ہے؟