Lesson 33 — Present Tense: 2nd Person Masculine Singular
فعل مضارع واحد مذکر مخاطب بنانے کے لیے ماضی کے واحد مذکر غائب کے شروع میں "تَ" لگا کر آخر کو پیش دیا جاتا ہے — جیسے: سَمِعَ (اس نے سنا) سے تَسْمَعُ (تم سنتے ہو)۔
اہم بات: یہ صیغہ لفظاً واحد مؤنث غائب کے صیغے (سبق ۳۲) سے یکساں ہے — "تَ" دونوں میں لگتا ہے۔ فرق سیاق و سباق سے پہچانا جاتا ہے۔
To form the 2nd person masculine singular present tense, add "ta-" to the start of the 3rd-person-masculine-singular past tense — e.g. sami'a (he heard) → tasma'u (you hear).
Note: this form is identical in spelling to the 3rd person feminine singular (Lesson 32) — "ta-" is added in both. The difference is recognized from context.
﴿تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ﴾
[آل عمران: 27]﴿وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ﴾
[آل عمران: 27]﴿لَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا﴾
[طه: 107]﴿وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ﴾
[الأعراف: 17]① ہر فعل کو 'تم' کی مضارع شکل میں بدل کر رکھیں۔
فعل مضارع واحد مذکر مخاطب کس حرف سے شروع ہوتا ہے؟
یہ صیغہ لفظاً کس اور صیغے جیسا ہے؟
"سَمِعَ" کی واحد مذکر مخاطب مضارع کیا ہے؟
﴿تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ﴾ کس سورت میں ہے؟
عِوَجًا کا معنی کیا ہے؟
﴿وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ﴾ کس سورت میں ہے؟
شَاكِرٌ کا معنی کیا ہے؟