Lesson 27 — Augmented Verbs: Two Extra Letters
فعل میں اصلی حروف سے دو حروف کے اضافے کی پانچ صورتیں ہوتی ہیں: (۱) اِفْتَعَلَ، جیسے: اِخْتَلَفَ (اس نے اختلاف کیا)۔ (۲) تَفَعَّلَ، جیسے: تَوَلّٰى (اس نے منہ موڑا)۔ (۳) تَفَاعَلَ، جیسے: تَبَارَكَ (وہ برکت والا ہے)۔ (۴) اِنْفَعَلَ، جیسے: اِنْقَلَبَ (وہ لوٹ گیا)۔ (۵) اِفْعَلَّ، جیسے: اِسْوَدَّ (کالا ہوا)، اِبْیَضَّ (سفید ہوا)۔
ان اوزان میں سے بعض کے معنی میں خاص باریکی ہوتی ہے — مثلاً اِنْفَعَلَ اکثر خود بخود ہو جانے والے کام کے لیے آتا ہے (جیسے اِنْقَلَبَ — از خود لوٹ جانا)، جبکہ اِفْعَلَّ کسی رنگ یا حالت میں تبدیلی کے لیے مخصوص ہے (اِسْوَدَّ، اِبْیَضَّ)۔
قرآن مجید میں تَوَلّٰى کا صیغہ بار بار آتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو حق سے منہ موڑ لیتے ہیں — اور اِخْتَلَفَ اہل کتاب کے آپس کے اختلافات بیان کرنے کے لیے۔
Adding two extra letters to the root has five patterns: (1) ifta'ala, e.g. ikhtalafa (he differed). (2) tafa''ala, e.g. tawallā (he turned away). (3) tafā'ala, e.g. tabāraka (He is blessed). (4) infa'ala, e.g. inqalaba (he turned back). (5) if'alla, e.g. iswadda (it became black), ibyaḍḍa (it became white).
Some of these patterns carry subtle nuance — infa'ala often implies something happening spontaneously/by itself (like inqalaba — turning back on one's own), while if'alla is specific to a change of color or state.
Tawallā appears often in the Qur'an describing those who turn away from the truth, while ikhtalafa describes disagreements among the People of the Book.
| وزن | مثال | معنی |
|---|---|---|
| اِفْتَعَلَ | اِخْتَلَفَ | اس نے اختلاف کیا |
| تَفَعَّلَ | تَوَلّٰى | اس نے منہ موڑا |
| تَفَاعَلَ | تَبَارَكَ | وہ برکت والا ہے |
| اِنْفَعَلَ | اِنْقَلَبَ | وہ لوٹ گیا |
| اِفْعَلَّ | اِسْوَدَّ | وہ کالا ہوا |
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ﴾
[البقرة: 176]﴿فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ﴾
[الزخرف: 65]﴿وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ﴾
[البقرة: 205]﴿اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبَارَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ﴾
[الأعراف: 54]﴿تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴾
[الملك: 1]﴿انْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةَ﴾
[الحج: 11]① ہر فعل کو اس کے صحیح وزن کے ساتھ ملائیں۔
دو حروف کے اضافے کی کتنی صورتیں ہیں؟
"اِخْتَلَفَ" کس وزن پر ہے؟
"تَوَلّٰى" کس وزن پر ہے؟
"اِسْوَدَّ" اور "اِبْیَضَّ" کس وزن پر ہیں؟
اِفْعَلَّ کا وزن خاص طور پر کس چیز کے لیے آتا ہے؟
شِقَاقٍ بَعِیْدٍ کا معنی کیا ہے؟
﴿وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟
﴿تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ﴾ کس سورت کی پہلی آیت ہے؟
﴿انْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ﴾ کا معنی کیا ہے؟
قَدِیْرٌ کا معنی کیا ہے؟