Lesson 25 — Past Tense: 1st Person Plural
فعل ماضی جمع متکلم بنانے کے لیے فعل کے آخر میں "نَا" کا اضافہ کیا جاتا ہے — یعنی جب بولنے والا اپنے اور دوسروں کے بارے میں بتائے ("ہم نے کیا") — جیسے: جَعَلَ (اس نے بنایا) سے جَعَلْنَا (ہم نے بنایا)، حَفَّ (اس نے گھیر لیا) سے حَفَفْنَا (ہم نے گھیر لیا)۔
قرآن مجید میں یہ صیغہ نہایت کثرت سے آیا ہے، خاص طور پر جب اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کے ساتھ اپنے افعال بیان فرماتے ہیں — جیسے: جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا (ہم نے اس کے لیے نور بنایا)، اور اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ (ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا)۔
یہ "جمع متکلم" کا صیغہ عربی میں تعظیم (عظمت) کے اظہار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے — یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے لیے واحد کی بجائے جمع کا صیغہ استعمال فرماتا ہے، جیسے بادشاہ اپنے فرمان میں "ہم حکم دیتے ہیں" کہتا ہے۔
To form the 1st person plural past tense, add "-nā" (نَا) — used when the speaker refers to themselves and others ("we did") — e.g. ja'ala (he made) → ja'alnā (we made); ḥaffa (he surrounded) → ḥafafnā (we surrounded).
This form is extremely common in the Qur'an, especially when Allah describes His actions with majesty — e.g. ja'alnā lahu nūran (We made for him a light), and akhadhnā mīthāqakum (We took your covenant).
This plural form is also used in Arabic as the royal/majestic plural — Allah refers to Himself in the plural form of speech, similar to how a king might say "We decree" rather than "I decree."
| فعل (مذکر غائب) | معنی | جمع متکلم (نَا) | معنی |
|---|---|---|---|
| جَعَلَ | اس نے بنایا | جَعَلْنَا | ہم نے بنایا |
| أَخَذَ | اس نے لیا | أَخَذْنَا | ہم نے لیا |
| حَفَّ | اس نے گھیرا | حَفَفْنَا | ہم نے گھیرا |
| أَنْزَلَ | اس نے نازل کیا | أَنْزَلْنَا | ہم نے نازل کیا |
﴿جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا﴾
[الأنعام: 122]﴿وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا﴾
[البقرة: 125]﴿كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا﴾
[البقرة: 143]﴿وَاِذْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ﴾
[البقرة: 63]﴿وَلَقَدْ أَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ﴾
[الأعراف: 130]﴿فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ﴾
[العنكبوت: 40]① ہر فعل کو "ہم نے" کی شکل میں بدل کر رکھیں۔
فعل ماضی جمع متکلم بنانے کے لیے فعل کے آخر میں کیا اضافہ کیا جاتا ہے؟
"جَعَلَ" کی جمع متکلم شکل کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے لیے جمع متکلم کا صیغہ کیوں استعمال فرماتا ہے؟
﴿جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا﴾ کس سورت میں ہے؟
مَثَابَةً کا معنی کیا ہے؟
﴿كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا﴾ میں "اُمَّةً وَّسَطًا" کا معنی کیا ہے؟
﴿وَاِذْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ﴾ میں "الطُّوْرَ" کیا ہے؟
﴿وَلَقَدْ أَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ﴾ میں "بِالسِّنِیْنَ" کا کیا مطلب ہے؟
ذَنْۢبٌ کا معنی کیا ہے؟
﴿فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟