قرآن کی زبانQur'anic Arabic
LEVEL 02 · جملہ فعلیہ

فعل ماضی — جمع مذکر مخاطب

Lesson 23 — Past Tense: 2nd Person Plural

آخر میں "تُمْ" یا "تُنَّ" کا اضافہ
۱

قاعدہ — فعل ماضی جمع مذکر و مؤنث مخاطب

Past Tense — 2nd Person Plural

فعل ماضی جمع مذکر مخاطب بنانے کے لیے فعل کے آخر میں "تُمْ" کا اضافہ کیا جاتا ہے — یعنی جب بات ایک سے زیادہ مردوں سے کی جا رہی ہو ("تم سب نے کیا") — جیسے: كَانَ (وہ تھا) سے كُنْتُمْ (تم سب تھے)، عَلِمَ (اس نے جانا) سے عَلِمْتُمْ (تم سب جان گئے)۔

اگر یہی بات ایک سے زیادہ عورتوں سے کی جائے تو فعل ماضی جمع مؤنث حاضر بنانے کے لیے آخر میں "تُنَّ" کا اضافہ ہوتا ہے — جیسے: رَاوَدَ (اس نے ورغلایا) سے رَاوَدْتُنَّ (تم سب — عورتوں — نے ورغلایا)، لَسْتَ سے لَسْتُنَّ (تم سب — عورتیں — نہیں ہو)۔

كُنْتُمْ قرآن مجید میں نہایت کثرت سے آیا ہے، اکثر کسی قوم کی سابقہ حالت یاد دلانے کے لیے — جیسے: كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً (تم تین قسموں میں بٹے ہوئے تھے)۔

To form the 2nd person masculine plural past tense, add "-tum" (تُمْ) — used when addressing more than one man — e.g. kāna (he was) → kuntum (you all were); 'alima'alimtum (you all knew).

For the 2nd person feminine plural, add "-tunna" (تُنَّ) — e.g. rāwadtunna (you women enticed); lastunna (you women are not).

Kuntum appears very often in the Qur'an, frequently reminding a people of their former state — e.g. kuntum azwājan thalāthah (you were of three kinds).

مثالیں
فعل (مذکر غائب)معنیجمع مذکر مخاطب (تُمْ)جمع مؤنث حاضر (تُنَّ)
كَانَوہ تھاكُنْتُمْكُنْتُنَّ
عَلِمَاس نے جاناعَلِمْتُمْ
كَفَرَاس نے کفر کیاكَفَرْتُمْ
رَاوَدَاس نے ورغلایارَاوَدْتُنَّ
كُنْتُمْتم سب (مرد) تھے
لَسْتُنَّ كَاَحَدٍتم (عورتیں) کسی جیسی نہیں ہو
۲

ترجمہ کریں — كُنْتُمْ اور كَفَرْتُمْ

Translate — 2nd person masculine plural past
نمبر: 0 / 0
0%

﴿كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً﴾

[الواقعة: 7]

﴿اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ﴾

[البقرة: 133]

﴿قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴾

[الأنبياء: 54]

﴿اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ﴾

[آل عمران: 106]

﴿وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ﴾

[إبراهيم: 7]

﴿یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ﴾

[الأحزاب: 32]
۳

مشکل الفاظ کے معانی

Vocabulary — with Qur'anic frequency
۴

سرگرمیاں

Activities — build the plural

① ہر فعل کو "تم سب" کی شکل میں بدل کر رکھیں۔

لَبِثْتُمْ عَلِمْتُمْ كَفَرْتُمْ كُنْتُمْ
لَبِثَ (وہ ٹھہرا) ← تم سب ؟
عَلِمَ (اس نے جانا) ← تم سب ؟
كَفَرَ (اس نے کفر کیا) ← تم سب ؟
كَانَ (وہ تھا) ← تم سب ؟
۵

سوال و جواب

Quiz — Lesson 23

فعل ماضی جمع مذکر مخاطب بنانے کے لیے فعل کے آخر میں کیا اضافہ کیا جاتا ہے؟


فعل ماضی جمع مؤنث حاضر بنانے کے لیے فعل کے آخر میں کیا اضافہ کیا جاتا ہے؟


"كَانَ" کی جمع مذکر مخاطب شکل کیا ہے؟


﴿كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً﴾ کس سورت میں ہے؟


شُهَدَآءَ کا معنی کیا ہے؟


﴿اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ﴾ میں کس نبی کا ذکر ہے؟


ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ کا معنی کیا ہے؟


﴿اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟


﴿یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ﴾ کس سورت میں ہے؟


"عَلِمَ" کی جمع مذکر مخاطب شکل کیا ہے؟

We use Cloudflare Analytics (no cookies). Privacy Policy