قرآن کی زبانQur'anic Arabic
LEVEL 02 · جملہ فعلیہ

فعل ماضی — واحد مذکر مخاطب

Lesson 22 — Past Tense: 2nd Person Singular

آخر میں "تَ" یا "تِ" کا اضافہ
۱

قاعدہ — فعل ماضی واحد مذکر و مؤنث مخاطب

Past Tense — 2nd Person Singular

فعل ماضی واحد مذکر مخاطب بنانے کے لیے فعل کے آخر میں "تَ" کا اضافہ کیا جاتا ہے — یعنی جب بات براہ راست ایک مرد سے کی جا رہی ہو ("تم نے کیا") — جیسے: جَاءَ (وہ آیا) سے جِئْتَ (تم آئے)، کَانَ (وہ تھا) سے کُنْتَ (تم تھے)۔

اگر یہی بات ایک عورت سے کی جائے تو فعل ماضی واحد مؤنث حاضر بنانے کے لیے آخر میں "تِ" کا اضافہ ہوتا ہے — جیسے: جَاءَ سے جِئْتِ (تم — ایک عورت — آئیں)، کَانَ سے کُنْتِ (تم — ایک عورت — تھیں)۔

قرآن مجید میں یہ صیغہ خاص طور پر انبیاء علیہم السلام سے قوموں کے مکالمے میں آتا ہے، جہاں کافر قومیں اپنے نبی سے راست خطاب کرتی ہیں — جیسے: قَالُوا الْاٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ (انہوں نے کہا: اب تم حق لے کر آئے)۔

To form the 2nd person masculine singular past tense, add "-ta" (تَ) — used when speaking directly to one man ("you did") — e.g. jā'a (he came) → ji'ta (you came); kāna (he was) → kunta (you were).

For the 2nd person feminine singular, add "-ti" (تِ) instead — e.g. ji'ti (you, a woman, came); kunti (you, a woman, were).

This form appears often in the Qur'an in direct dialogue — especially when disbelieving nations address their prophets, e.g. qālū al-āna ji'ta bil-ḥaqq (they said: now you have brought the truth).

مثالیں
فعل (مذکر غائب)معنیمذکر مخاطب (تَ)مؤنث حاضر (تِ)
جَاءَوہ آیاجِئْتَجِئْتِ
كَانَوہ تھاكُنْتَكُنْتِ
صَدَقَاس نے سچ کہاصَدَقْتَ
عَلِمَاس نے جاناعَلِمْتَ
جِئْتَتم (ایک مرد) لائے / آئے
كُنْتَتم (ایک مرد) تھے
۲

ترجمہ کریں — جِئْتَ اور كُنْتَ

Translate — 2nd person masculine singular past
نمبر: 0 / 0
0%

﴿قَالُوا الْاٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ﴾

[البقرة: 71]

﴿لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا اِمْرًا﴾

[الكهف: 71]

﴿فَلَبِثْتَ سِنِيْنَ فِيْٓ اَهْلِ مَدْیَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى﴾

[طه: 40]

﴿وَاِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ﴾

[النساء: 102]

﴿وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ﴾

[آل عمران: 159]

﴿اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا﴾

[طه: 35]
۳

مشکل الفاظ کے معانی

Vocabulary — with Qur'anic frequency
۴

سرگرمیاں

Activities — 3rd person to 2nd person

① ہر فعل کو "تم" (مذکر مخاطب) کی شکل میں بدل کر رکھیں۔

لَبِثْتَ خَلَقْتَ فَعَلْتَ رَاَيْتَ
لَبِثَ (وہ ٹھہرا) ← تم ؟
خَلَقَ (اس نے پیدا کیا) ← تم ؟
فَعَلَ (اس نے کیا) ← تم ؟
رَاَى (اس نے دیکھا) ← تم ؟
۵

سوال و جواب

Quiz — Lesson 22

فعل ماضی واحد مذکر مخاطب بنانے کے لیے فعل کے آخر میں کیا اضافہ کیا جاتا ہے؟


فعل ماضی واحد مؤنث حاضر بنانے کے لیے فعل کے آخر میں کیا اضافہ کیا جاتا ہے؟


"جَاءَ" کی مذکر مخاطب شکل کیا ہے؟


﴿قَالُوا الْاٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ﴾ کس سورت میں ہے؟


﴿لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا اِمْرًا﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟


فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ کا معنی کیا ہے؟


﴿وَاِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ﴾ کس سورت میں ہے؟


"كَانَ" کی مؤنث حاضر (تم — ایک عورت) شکل کیا ہے؟


بَصِیْرًا کا معنی کیا ہے؟


﴿فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْٓ اَهْلِ مَدْیَنَ﴾ میں یہ خطاب کس نبی سے تھا؟

We use Cloudflare Analytics (no cookies). Privacy Policy