Lesson 14 — Negation: إِنْ
"اِنْ" جب جملہ اسمیہ کے شروع میں نافیہ کے طور پر آئے تو یہ "مَا" کی طرح نفی کرتا ہے۔ اور جب اس کے ساتھ "اِلَّا" (مگر / سوائے) بھی آجائے تو دونوں مل کر حصر کا مفہوم دیتے ہیں — یعنی "صرف یہی، اور کچھ نہیں" — جیسے: اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ — فیصلہ صرف اللہ ہی کا ہے۔
یہ ترکیب "اِنْ ... اِلَّا" قرآن میں نہایت کثرت سے آئی ہے، خصوصاً جب کسی بات کو مکمل طور پر محدود کرنا مقصود ہو — جیسے: اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ (ہم تو تمہاری طرح صرف انسان ہی ہیں)۔
﴿اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ﴾
[يوسف: 40]﴿قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ﴾
[ابراهيم: 11]﴿قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا﴾
[ابراهيم: 10]﴿اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِيْ غُرُوْرٍ﴾
[الملك: 20]﴿مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ اِنْ هٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ﴾
[ص: 7]﴿وَقَالُوْٓا اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ﴾
[الصافات: 15]﴿اِنْ هِيَ اِلَّآ اَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُكُمْ﴾
[النجم: 23]﴿اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ﴾
[النجم: 23]① "اِنْ ... اِلَّا" کے بعد آنے والے الفاظ مکمل کریں۔
② نیچے دیے گئے الفاظ کو صحیح آیت میں رکھیں۔
"اِنْ" جب نافیہ ہو تو اس کا معنی کس لفظ جیسا ہوتا ہے؟
جب "اِنْ" کے ساتھ "اِلَّا" آئے تو کیا مفہوم پیدا ہوتا ہے؟
﴿اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ﴾ کا ترجمہ:
﴿اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ﴾ یہ کس نے کہا؟
غُرُوْرٌ کا معنی:
﴿اِنْ هٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ﴾ کس سورت کی آیت ہے؟
اِخْتِلَاقٌ کا معنی:
﴿اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ﴾ کا ترجمہ:
﴿اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِيْ غُرُوْرٍ﴾ کس سورت میں ہے؟
﴿قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا﴾ کا ترجمہ: