Lesson 02 — Prepositional Phrase
جیسا کہ ہم پچھلے سبق میں پڑھ چکے ہیں کہ عربی زبان میں اسم پر "دو پیش" یا "ایک پیش" آتا ہے، لیکن کچھ حروف ایسے ہیں اگر وہ کسی اسم (Noun) سے پہلے آجائیں تو اس اسم کو "دو زیر" یا "ایک زیر" دیتے ہیں۔
ایسے حروف کو "حروف جارہ" کہتے ہیں اور زیر کے ساتھ آنے والے لفظ کو "مجرور" کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ دونوں مل کر ایک لفظ شمار ہوتے ہیں — لہذا جملہ مکمل ہونے کے لیے ایک اور "لفظ" کی بھی ضرورت ہو گی۔
As we learned in the previous lesson, nouns in Arabic normally carry a ḍamma (single or double) at the end. However, certain particles — when placed before a noun — cause it to take a kasra (single or double) instead.
These particles are called ḥurūf jārra (prepositions / governing particles), and the noun that follows them is called majrūr (the governed noun). Together they form a single grammatical unit — so the sentence still needs one more word to be complete.
| حرف جار | معنی | تعداد |
|---|---|---|
| فِي | میں | 1996 |
| عَلَى | پر | 1445 |
| مِنْ | سے | 3222 |
| إِلَى | تک | 742 |
| لِ | کیلئے | 4589 |
| بِ | کے ساتھ | 3706 |
﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ﴾
[الفاتحة: 2]﴿اَلْوَلَايَةُ لِلّٰهِ﴾
[الكهف: 44]﴿هٰذَا لِلّٰهِ﴾
[الأنعام: 136]﴿وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ﴾
[المنافقون: 8]﴿لِلّٰهِ الْحَمْدُ﴾
[فاطر: 10]﴿اَلْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِلّٰهِ﴾
[الحج: 56]﴿وَالْاَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلّٰهِ﴾
[الانفطار: 19]﴿فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ﴾
[غافر: 12]﴿اَلْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُولِ﴾
[الأنفال: 1]﴿لِلّٰهِ الْأَمْرُ﴾
[الرعد: 31]﴿وَلِلّٰهِ مِيرَاثُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ﴾
[الحديد: 10]﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ﴾
[آل عمران: 97]﴿وَلِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ﴾
[الفتح: 7]﴿لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴾
[غافر: 16]﴿ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ﴾
[الجمعة: 4]﴿ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ﴾
[يوسف: 38]﴿ذٰلِكَ جَزَاءُ اَعْدَاءِ اللّٰهِ﴾
[فصلت: 28]﴿ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيرٌ﴾
[الحج: 70]﴿اَللّٰهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ﴾
[البقرة: 207]﴿اَللّٰهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ﴾
[آل عمران: 15]﴿لِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ﴾
[البقرة: 241]﴿هٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ﴾
[آل عمران: 138]﴿اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ﴾
[التوبة: 60]﴿اِلَى اللّٰهِ الْمَصِيرُ﴾
[آل عمران: 28]﴿فَهَلْ اِلَى خُرُوجٍ مِّنْ سَبِيلٍ﴾
[غافر: 11]﴿لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ﴾
[آل عمران: 157]﴿ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ﴾
[النساء: 70]﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ﴾ میں حرف جار کون سا ہے؟
﴿اَللّٰهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ﴾ میں حرف جار کون سا ہے؟
﴿اِلَى اللّٰهِ الْمَصِيرُ﴾ میں حرف جار کون سا ہے؟
فِي کا معنی کیا ہے؟
مِنْ کا معنی کیا ہے؟
﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟
﴿اِلَى اللّٰهِ الْمَصِيرُ﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟
﴿وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟
اَلْمَصِيرُ کا معنی کیا ہے؟
اَلصَّدَقَاتُ کا معنی کیا ہے؟