Lesson 19 — The Verbal Sentence: Past Tense Verb
جملہ فعلیہ وہ جملہ ہے جس کا پہلا لفظ فعل (کام کا لفظ) ہو — جیسے: خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ (اللہ تعالیٰ نے سات آسمان پیدا کیے)۔ یہاں پہلا لفظ خود ایک کام (پیدا کرنا) بتا رہا ہے، اسی لیے یہ جملہ فعلیہ ہے — جملہ اسمیہ کے برعکس جہاں پہلا لفظ ہمیشہ اسم ہوتا تھا۔
جملہ فعلیہ عموماً تین چیزوں سے مل کر مکمل ہوتا ہے: فعل (Verb) + فاعل (Subject — کام کرنے والا) + مفعول (Object — جس پر کام ہوا)۔ اعرابی طور پر فاعل پر پیش یا دو پیش آتا ہے، جبکہ مفعول پر زبر یا دو زبر — سوائے جمع مؤنث سالم (وہ الفاظ جن کے آخر میں "ات" ہو) کے، جہاں زبر کی بجائے زیر آتی ہے۔
فعل وہ لفظ ہے جس میں کسی زمانے میں کسی کام کے ہونے یا کرنے کا ذکر ہو۔ فعل کی چار قسمیں ہیں: ماضی (Past)، مضارع (Present/Future)، امر (Command)، اور نہی (Prohibition)۔
اس سبق میں ہم صرف فعل ماضی پر بات کریں گے — یعنی وہ فعل جس میں زمانہ ماضی میں کسی کام کے کرنے یا ہونے کا ذکر ہو۔
عربی میں فعل کے بنیادی طور پر تین حروف ہوتے ہیں، جن میں سے پہلے اور تیسرے حرف پر ہمیشہ زبر ہوتی ہے، اور دوسرے حرف پر کبھی زبر، کبھی زیر، تو کبھی پیش — جیسے: خَلَقَ، سَمِعَ، کَرُمَ۔
"خَلَقَ" اس تین حرفی فعل میں چار باتیں پائی جاتی ہیں: (۱) یہ فعل ماضی کا ہے، (۲) اس کا کرنے والا غائب (Third Person) ہے، (۳) اس کا کرنے والا مذکر (Masculine) ہے، (۴) اس کا کرنے والا واحد (Singular) ہے۔ لہٰذا "خَلَقَ" کا مکمل معنی ہوگا: "اس ایک (ذات) نے پیدا کیا"۔
A verbal sentence (jumla fi'liyya) begins with a verb — e.g. khalaqa Allahu sab'a samawat (Allah created seven heavens). Unlike the nominal sentence, the first word here is an action word, not a noun.
It's normally built from three parts: fi'l (verb) + fa'il (subject, takes damma) + maf'ul (object, takes fatha — except sound feminine plurals ending in "-at", which take kasra instead).
A fi'l describes an action happening in some tense. There are four types: madi (past), mudari' (present/future), amr (command), and nahy (prohibition). This lesson covers only the past tense (madi).
Arabic verbs are built on a three-letter root, where the 1st and 3rd letters always carry fatha, and the middle letter varies — e.g. khalaqa, sami'a, karuma. The base form "khalaqa" packs four pieces of information: past tense, 3rd person, masculine, singular — meaning "he created."
| صیغہ | واحد Singular | تثنیہ Dual | جمع Plural |
|---|---|---|---|
| غائب مذکر 3rd Masc. |
خَلَقَ | خَلَقَا | خَلَقُوْا |
| غائب مؤنث 3rd Fem. |
خَلَقَتْ | خَلَقَتَا | خَلَقْنَ |
| مخاطب مذکر 2nd Masc. |
خَلَقْتَ | خَلَقْتُمَا | خَلَقْتُمْ |
| مخاطب مؤنث 2nd Fem. |
خَلَقْتِ | خَلَقْتُمَا | خَلَقْتُنَّ |
| متکلم 1st Person |
خَلَقْتُ | خَلَقْنَا | |
﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ﴾
[الزمر: 5]﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾
[العلق: 2]﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ﴾
[الرحمن: 3-4]﴿خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ﴾
[النساء: 1]﴿قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا﴾
[المجادلة: 1]① ہر صیغے (ضمیر) کے سامنے "خَلَقَ" کی درست شکل رکھیں — اوپر دی گئی جدول کی مدد سے۔
جملہ فعلیہ کا پہلا لفظ کیا ہوتا ہے؟
فاعل پر عموماً کون سا اعراب آتا ہے؟
مفعول پر عموماً زبر آتا ہے، سوائے اس کے کہ لفظ کے آخر میں کیا ہو؟
فعل کی کتنی قسمیں ہیں؟
"خَلَقَ" میں کتنی باتیں پائی جاتی ہیں؟
"خَلَقُوْا" کس صیغے کی مثال ہے؟
"خَلَقْتُ" کا معنی کیا ہے؟
﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟
﴿قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ﴾ کس سورت کی پہلی آیت ہے؟
عَلَقٍ کا معنی کیا ہے؟