قرآن کی زبانQur'anic Arabic
LEVEL 03 · قرآنی قصص

قصۃ موسیٰ علیہ السلام

Lesson 61 — The Story of Musa (AS)

صرف تلاوت اور ترجمہ — کوئی قاعدہ یا کوئز نہیں
یہ سبق باقی اسباق سے مختلف ہے — اس میں کوئی نیا گرامر کا قاعدہ نہیں سکھایا جا رہا، بلکہ اب تک سیکھی گئی تمام گرامر کو ایک ساتھ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مکمل قصے کی چند اہم ترین آیات میں، برتنے کی مشق ہے۔ ہر آیت پر 🔊 آئیکن سے تلاوت سنی جا سکتی ہے۔
۱

پیدائش اور دریا میں بہایا جانا

Birth & the River

﴿وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْزَنِيْ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ﴾

[القصص: 7]

اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو الہام کیا کہ اسے دودھ پلاؤ، پھر جب تمہیں اس پر خوف ہو تو اسے دریا میں ڈال دو، اور نہ ڈرو نہ غم کرو، بےشک ہم اسے تمہاری طرف لوٹانے والے اور اسے رسولوں میں سے بنانے والے ہیں

﴿فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾

[القصص: 8]

تو فرعون کے گھر والوں نے اسے اٹھا لیا تاکہ وہ ان کے لیے دشمن اور غم کا باعث بنے

﴿وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّيْ وَلَكَ لَا تَقْتُلُوْهُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا﴾

[القصص: 9]

اور فرعون کی بیوی نے کہا: یہ میری اور تمہاری آنکھ کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں

﴿وَقَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّيْهِ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ﴾

[القصص: 11]

اور اس (ام موسیٰ) نے اس کی بہن سے کہا: اس کا پیچھا کرو، تو اس نے اسے دور سے دیکھا جبکہ انہیں خبر نہ تھی

﴿فَرَدَدْنٰهُ اِلٰٓى اُمِّهٖ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ﴾

[القصص: 13]

پھر ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غم نہ کرے، اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے

۲

مصر سے ہجرت اور مدین کی طرف روانگی

Fleeing Egypt to Madyan

﴿فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْهِ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيْنٌ﴾

[القصص: 15]

تو موسیٰ نے اسے مکا مارا جس سے اس کا کام تمام ہو گیا، کہا: یہ تو شیطان کا کام ہے، بےشک وہ کھلا گمراہ کرنے والا دشمن ہے

﴿قَالَ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَغَفَرَ لَهٗ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ﴾

[القصص: 16]

کہا: اے میرے رب! بےشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش دے، تو اس نے اسے بخش دیا، بےشک وہ بہت بخشنے والا، مہربان ہے

﴿وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ يَسْعٰى قَالَ يٰمُوْسٰٓى اِنَّ الْمَلَاَ يَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِيَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّيْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيْنَ﴾

[القصص: 20]

اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، کہا: اے موسیٰ! سردار تیرے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں، پس نکل جا، بےشک میں تیرا خیرخواہ ہوں

﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّيْٓ اَنْ يَّهْدِيَنِيْ سَوَآءَ السَّبِيْلِ﴾

[القصص: 22]

اور جب اس نے مدین کا رخ کیا، کہا: امید ہے میرا رب مجھے سیدھا راستہ دکھائے گا

﴿فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰٓى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّيْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ﴾

[القصص: 24]

تو اس نے ان دونوں کے (جانوروں کو) پانی پلایا، پھر سائے کی طرف پلٹ گیا اور کہا: اے میرے رب! بےشک جو بھلائی تو مجھ پر اتارے میں اس کا محتاج ہوں

۳

مدین میں قیام اور نکاح

Life in Madyan & Marriage

﴿قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا يٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ﴾

[القصص: 26]

ان میں سے ایک نے کہا: اے میرے باپ! اسے مزدوری پر رکھ لیجیے، بےشک بہترین وہ ہے جسے آپ مزدوری پر رکھیں جو طاقتور، امانت دار ہو

﴿قَالَ اِنِّيْٓ اُرِيْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَيَّ هٰتَيْنِ عَلٰٓى اَنْ تَاْجُرَنِيْ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾

[القصص: 27]

اس نے کہا: بےشک میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا تجھ سے نکاح کر دوں، اس شرط پر کہ تو آٹھ سال میری مزدوری کرے

۴

کوہِ طور پر نبوت کا آغاز

Prophethood at Mount Ṭūr

﴿فَلَمَّآ اَتٰىهَا نُوْدِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ يّٰمُوْسٰٓى اِنِّيْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ﴾

[القصص: 30]

پھر جب وہ اس کے پاس آیا تو وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ سے، ایک درخت میں سے آواز دی گئی کہ اے موسیٰ! بےشک میں ہی اللہ ہوں، تمام جہانوں کا رب

﴿اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا۠ فَاعْبُدْنِيْ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْٓ﴾

[طه: 14]

بےشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر

﴿قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ. وَيَسِّرْ لِيْٓ اَمْرِيْ. وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ. يَفْقَهُوْا قَوْلِيْ﴾

[طه: 25-28]

کہا: اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے، اور میرا کام آسان کر دے، اور میری زبان کی گرہ کھول دے، تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں

﴿وَاجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا مِّنْ اَهْلِيْ. هٰرُوْنَ اَخِيْ. اشْدُدْ بِهٖٓ اَزْرِيْ. وَاَشْرِكْهُ فِيْٓ اَمْرِيْ﴾

[طه: 29-32]

اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر بنا دے، ہارون، میرا بھائی، اس سے میری قوت بڑھا دے، اور اسے میرے کام میں شریک کر دے

۵

فرعون سے مکالمہ

Dialogue with Pharaoh

﴿اذْهَبَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى. فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى﴾

[طه: 43-44]

تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ، بےشک وہ سرکش ہو گیا ہے، پس اس سے نرمی کی بات کرو، شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈرے

﴿قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى. قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى﴾

[طه: 49-50]

فرعون نے کہا: اے موسیٰ! تم دونوں کا رب کون ہے؟ کہا: ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی مخصوص صورت دی پھر راہ دکھائی

﴿فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ. وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيْضَآءُ لِلنّٰظِرِيْنَ﴾

[الشعراء: 32-33]

تو اس نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ اچانک ایک کھلا اژدھا بن گئی، اور اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکتا ہوا نظر آیا

۶

جادوگروں کا مقابلہ اور ایمان

The Magicians' Contest & Belief

﴿فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ. فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ﴾

[الشعراء: 45، الأعراف: 118]

تو موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ ان کی بنائی ہوئی چیزوں کو نگلنے لگی، تو حق ثابت ہو گیا اور جو وہ کر رہے تھے باطل ہو گیا

﴿فَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَمُوْسٰى﴾

[طه: 70]

تو جادوگر سجدے میں گر پڑے، کہا: ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے

﴿قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالَّذِيْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ﴾

[طه: 72]

انہوں نے کہا: ہم تجھے ان کھلی نشانیوں پر جو ہمارے پاس آئیں اور اس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا، ہرگز ترجیح نہیں دیں گے، پس تو جو فیصلہ کرنا چاہے کر لے

۷

بنی اسرائیل کی ہجرت اور فرعون کی ہلاکت

The Exodus & Pharaoh's Destruction

﴿فَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ﴾

[الشعراء: 63]

تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مار، تو وہ پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا بڑے پہاڑ کی طرح ہو گیا

﴿حَتّٰٓى اِذَآ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓا اِسْرَآءِيْلَ وَاَنَا۠ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ﴾

[يونس: 90]

یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے آ لیا، کہا: میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں

﴿اٰلْـٰٔنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ. فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً﴾

[يونس: 91-92]

اب (ایمان لاتا ہے)؟ حالانکہ تو پہلے نافرمانی کر چکا اور فساد کرنے والوں میں سے تھا، پس آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے

۸

کوہِ طور پر توریت اور بچھڑے کی پوجا

The Torah at Mount Ṭūr & the Golden Calf

﴿وَوٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً وَّاَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبِّهٖٓ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً﴾

[الأعراف: 142]

اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس مزید سے اسے پورا کیا، تو اس کے رب کا مقررہ وقت چالیس راتیں پورا ہو گیا

﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرٰىنِيْ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِيْ﴾

[الأعراف: 143]

کہا: اے میرے رب! مجھے دکھا کہ میں تیری طرف دیکھوں، فرمایا: تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکے گا، لیکن پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہا تو تو مجھے دیکھ لے گا

﴿وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ﴾

[الأعراف: 148]

اور موسیٰ کی قوم نے اس کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا، جسم والا، جس میں سے آواز نکلتی تھی

﴿وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ مِنْۢ بَعْدِيْ﴾

[الأعراف: 150]

اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصے اور افسوس کی حالت میں لوٹا، کہا: تم نے میرے پیچھے بہت برا کیا

﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ وَاَدْخِلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ﴾

[الأعراف: 151]

کہا: اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر، اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

We use Cloudflare Analytics (no cookies). Privacy Policy