Lesson 55 — Cognate Object & Object of Purpose
مصدر وہ لفظ ہے جس سے سارے افعال بنتے ہیں — جیسے الْجُلُوْسُ سے جَلَسَ۔ جب مصدر اپنے فعل کے بعد اسی کی تاکید کے لیے آئے تو اسے مفعول مطلق کہتے ہیں — جیسے: فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا (تو میں انہیں سخت عذاب دوں گا)۔
اور اگر کوئی مصدر کسی فعل کی وجہ بیان کرنے کے لیے آئے تو اسے مفعول لہ کہتے ہیں — جیسے: وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (بدلے میں جو وہ کماتے تھے)۔
A maṣdar (verbal noun) is the root from which all verbs derive — e.g. al-julūs from jalasa. When a maṣdar follows its own verb for emphasis, it's called maf'ūl muṭlaq (cognate object) — e.g. fa-u'adhdhibuhum 'adhāban shadīdan (I will punish them with a severe punishment).
When a maṣdar states the reason for an action, it's called maf'ūl lah (object of purpose) — e.g. wa ma'wāhum jahannamu jazā'an bimā kānū yaksibūn (as recompense for what they earned).
﴿فَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ﴾
[آل عمران: 56]﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا﴾
[الأحزاب: 41]﴿وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ﴾
[التوبة: 95]﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ﴾
[البقرة: 207]① ہر مثال کو 'مفعول مطلق' یا 'مفعول لہ' کے ساتھ ملائیں۔
مفعول مطلق کیا کرتا ہے؟
مفعول لہ کیا کرتا ہے؟
﴿فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا﴾ میں "عَذَابًا شَدِيْدًا" کیا ہے؟
﴿وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ﴾ میں "جَزَاءً" کیا ہے؟
مَرْضَاةٌ کا معنی کیا ہے؟
﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا﴾ کس سورت میں ہے؟